موجودہ چیلینج سے نبردآزما ہونے کیلئے عالمی تعاون کی ضرورت ہوئی وزیراعظم
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ہمدردی اور قائدانہ خصوصیات نے مجھے متاثر کیا۔ شہباز شریف کا ٹویٹ
(ٹوٹل میگزین )
11/9/2022

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ چیلینج سے نبردآزما ہونے کیلئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں انہون نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی جانب سے سیلاب متاثرین کی بے مثال معاونت پر مشکور ہیں، انتونیو گوتریس کا دورہ سیلاب سے جنم لینے والے انسانی المیے سے متعلق آگاہی کے لیے اہم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ شدید گرمی میں سیلاب متاثرہ علاقوں اور امدادی کیپموں کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو دیکھ کر شدید حیران اور پریشان رہ گئے، وہ سیلاب متاثرین کے دُکھوں کی آواز بن گئے ہیں، دنیا کو ان کی موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے حوالے سے گفتگو پر توجہ دینی چاہیئ

شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دو روزہ دورہ اس انسانی سانحے کے حوالے سے دنیا بھر میں آگاہی پھیلانے کے لیے نہایت اہم رہا، ان کی ہمدردی اور قائدانہ خصوصیات نے مجھے متاثر کیا، پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہے۔
گزشتہ روز سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے وزیراعظم پاکستان شہبازشریف اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو کے ہمراہ لاڑکانہ میں متاثرین کیمپ کا دورہ کیا،اس موقع پر یواین سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان میں سیلابی صورتحال دیکھ کردلی دکھ ہوا، پاکستان کے معاملات جلد حل ہونے کا خواہاں اور دعاگو ہوں، پاکستان کے مسائل پردنیا بھر میں آواز اٹھائیں گے، پاکستان کو موجودہ صورتحال میں زیادہ مالی امداد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں صنعتوں نے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب کیے، پاکستان کے پاس سیلاب سے نقصانات کے ازالے کیلئے وسائل ناکافی ہیں، ذمہ دارممالک کو پاکستان کی مدد کیلیے آگے آنا چاہیے، آج کے دور موسمیاتی تبدیلی ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جو دیکھا بیان کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں، آج کے دور میں موسمیاتی تبدیلی ایک بہت بڑا چیلنج ہے، سیلاب سے فصلیں تباہ اور جانور ہلاک ہو گئے، سیلاب سے لاکھوں افراد بےگھر ہوئے ہیں۔
سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر بڑی مالی امداد کی ضرورت ہے، اقوام عالم اور عالمی اداروں کو اس مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے، پاکستان دوسرے ممالک کے اقدامات کی قیمت چکا رہا ہے، پاکستانی اداروں کی امدادی سرگرمیوں پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جی20 ممالک 80 فیصد کاربن اخراج کے ذمہ دار ہیں، سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے آگے آنا ہوگا، آج پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا سامنا رہا ہے تو کل کوئی دوسرا ملک بھی کرسکتا ہے
مزید پڑھیں

Previous post آپریشن لندن برج کے اندر: ملکہ کی موت کے بعد کیا ہوتا ہے اس کا منصوبہ<br>(ٹوٹل میگزین )<br>9/9/2022
Next post سات روز کی موسمی حالت (ٹوٹل میگزین )<br>11/9/2022