حقیقی آزادی مارچ کا پڑاؤ فیض آباد میں ڈالنے کا قوی امکان

راولپنڈی پہنچ کر مطالبات کی منظوری کے لیے ڈیڈ لائن دی جائے گی،جب تک حکومت قبل از وقت انتخابات کا اعلان نہیں کرتی تو دھرنا دیا جائے،حکومت قبل از وقت انتخابات کی طرف نہیں بڑھتی تو اسلام آباد کی جانب بڑھا جائے۔پارٹی رہنماؤں کی عمران خان کو تجاویز

(ٹوٹل میگزین )

18/11/22

پاکستان تحریک انصاف کا حکومت مخالف حقیقی آزادی مارچ جاری ہے۔حقیقی آزادی مارچ کے پڑاؤ کے لیے جگہ کا تعین کر لیا گیا۔حقیقی آزادی مارچ کا پڑاؤ ہوا فیض آباد میں ڈالنے کا قوی امکان ہے۔زمان پارک میں حکومت کو بہت ٹف ٹائم دینے کے لیے مشاورتی عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے اور دو روز قبل عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا ہے۔
اجلاس میں پی۔ٹی۔آئی کے مطالبات کی منظوری کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا ہے۔پی۔ٹی۔آئی رہنماؤں نے تجویز دی ہے کہ راولپنڈی پہنچ کر مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو ڈیڈ لائن دی جائے گی۔ جب تک حکومت قبل از وقت انتخابات کا اعلان نہیں کرتی ہے تو دھرنا دیا جائے گا۔حکومت قبل از وقت انتخابات کی طرف نہیں بڑھتی تو اسلام آباد کی جانب بڑھا جائے ہے۔

پارٹی رہنماؤں کی پچھلے اجلاس میں دی گئی ہے اور تجاویز پر آج پھر مشاورت کی جائے۔

کل عمران خان پارٹی رہنماؤں کی تجاویز پر اہم اعلان کریں گے۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ راولپنڈی ڈویژن کی بھی حدود میں داخل ہونے کے بعد سیکیورٹی کے ایلیٹ فورسز اور پیشہ ور نشانے باز کمانڈور سمیت 10 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ پنجاب پولیس کے 101 اہلکار اور پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ پولیس (پی ایچ پی)کے 500 اہلکار لانگ مارچ کے لیے چوکس رہیں گے۔
لانگ مارچ کی سخت سیکیورٹی گارڈ کیلئے 13 سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس۔ ایس پی)اورسپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس۔ پی)نگرانی کی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔ جبکہ 122 کمانڈوز سمیت 38 ایلیٹ فورس کے اہلکار بھی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔اسی طرح ٹریفک پولیس کے ایک ہزار 194 افسران اور اہلکار اور ضلع کی 91 خواتین پولیس افسران بھی لانگ مارچ کی سیکیورٹی کے لیے ذمہ داریاں سنبھالے گیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد پنجاب حکومت نے لانگ مارچ کے شرکا کی سیکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کرنے کا حکم دیا تھا اور پنجاب حکومت نے چکوال اور اٹک میں فول پروف سیکیورٹی کے اقدامات کو حتمی شکل دی۔ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن کے متعدد پولیس یونٹ کے کل 10 ہزار 500 اور پولیس اہلکار لانگ مارچ کی سیکیورٹی گارڈ کے لیے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
Liveعمران خان سے متعلق تازہ ترین معلومات
مزید پڑھیں

Previous post عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس سماعت کے لئے مقرر<br>چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں5 بھی رکنی لارجر بنچ کل سماعت کرے گا<br>(ٹوٹل میگزین )
Next post بابر اعظم ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کپتان