پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت پر ٹرانسفر پوسٹنگ کیس،پنجاب حکومت سے جواب طلب
سپریم کورٹ نے مقدمے کا دائرہ وفاق اور دیگر صوبوں تک وسیع کر دیا،دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کا حکم

(ٹوٹل میگزین )

23/11/22

سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت پر تبادلوں کے کیس میں صوبائی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔ عدالت عظمٰی نے مقدمے کا دائرہ وفاق اور دیگر صوبوں تک وسیع کرتے ہوئے 8 سال میں محکمہ پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگ کا ریکارڈ طلب بھی کر لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت پر ٹرانسفر پوسٹنگ کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے کیس پر سماعت کی۔
عدالت نے درخواست گزار وکیل کی استدعا پر مقدمے کا دائرہ وفاق اور دیگر صوبوں تک وسیع کردیا،عدالت نے وفاق اور دیگر صوبوں سے بھی پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگ پر جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ڈی پی او لیہ کے تبادلے سے متعلق ہیڈ لائنز نہیں دیکھی،ڈیٹا کے مطابق پنجاب میں ڈی پی او کی اوسط ٹرم 5 ماہ ہے جبکہ 4 سال میں پنجاب میں 268 ڈی پی اوز کے تبادلے ہوئے۔

عدالت عظمٰی نے وفاق اور باقی صوبوں سے 8 سال میں محکمہ پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگ کا ریکارڈ طلب بھی کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے دو ہفتے میں وفاق اور دیگر صوبوں کو جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے پنجاب میں سیاسی مداخلت پر تبادلوں سے متعلق کیس کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کر دی۔ قبل ازیں سپریم کورٹ میں پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت اور چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل کی واپسی سے متعلق درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کی گئیں۔
دونوں درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا۔جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ بھی بینچ میں شامل ہیں۔شہری رانا طاہر سلیم نے پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب میں سیاسی مداخلت اور افسران کے غیر ضروری ٹرانسفر پوسٹنگ سے پولیس کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔
مزید پڑھیں

Previous post سات دنوں کی موسمی حالت (ٹوٹل میگزین )